دیدار حرمین الشریفین نہ
صرف ایک مقدس
سفر ہے بلکہ
ہر مسلمان کی دلی خواہش
ہوتی ہے کہ
وہ اپنی زندگی
میں باالضرور ایک
بار حا ضری لگوائے
اور جو ایک
بار جائے انکی
خواہش ہوتی ہے
کہ بار بار جائے
اور اپنی آنکھوں
کو گنبدِ حضریٰ
کی زیارت سے
منور کرے۔ لیکن
بدقسمتی سے یہ
مقدس سفر جو
پاکستا ن کے غریب
اور متوسط طبقہ
ساری زندگی پائی پائی
اکھٹی کر کے کرتے ہیں وہ
اُس وقت انتہائی تکلیف
دہ ہوتا ہے
جب ٹریول ایجنٹس
حرمین کے عقیدت
مندوں کو دونوں ہاتھوں
سے لوٹتے ہیں ایسی ہی ایک داستان
جو میری فیملی
کے ساتھ متعلق
ہے آپ لوگوں
سے شیئر کرنا
چاہتا ہوں۔
حال ہی میں میرے
والدین ایک کزن
اور ایک تائی
بمع تین اور
دوستوں نے عمرہ
کہ لئے رخت ِسفر
باندھا تو اس
سلسلے میں، میں
نے ایک دوست کی وِساطت
سے ایک ٹریول
ایجنسی جس کا
نام عربین انٹرنیشنل
ٹریولز (پرائیوٹ لمیٹڈ) واقع
بوبی پلازہ پشاور
صدر کے مولانا
لال بہادر اور
سراج سے رابطہ
کیا۔ مولانا لال
بہادر جس کا
موبائل نمبر 0315-9087680 ہے
ظاہری وضع قطع
سے باریش، دیندار
اور عالم معلوم
ہوتا ہے نہ
مجھے اپنی دینداری
و ایمانداری کے
قصے سُناکر شیشے میں اُتارا
اور مجھے یقین
دلایا کہ وہ صرف
خدمت کے جذبے سے عازمین
عمرہ کی دعائیں
لیتا ہے اور
انتہائی مناسب قیمت میں بہترین
سروسز مہیا کرتا
ہے۔
مذکورہ مولانا لال بہادر جو
نام سے ہے ہی مشکوک
لگتا ہے نے
مجھے اول فی کس -/195،000 پر
معاہدہ کیا ۔ جب
سارے ڈاکومنٹس حوالہ
کئے تو مختلف
حیلوں بہانوں سے مزید پیسوں
کا تقاضا کیا
اور دوسرا معاہدہ
-/210,000 فی کس میں کیا۔ مولانا
لال بہادر نے اس
پر بھی بس
نہ کیا اور
مہنگائی کا رونا
دھونا شروع کرکے تیسرا معاہدہ
-/215,000 میں کیا۔
مولانا صاحب کی روش کو دیکھتے
ہوئے ہم نے اس
تیسرے معاہدہ کے
مطابق ساری رقم دیدی تاکہ
اور کوئی مسئلہ نہ
بنے۔ اِس شخص
نے روبرو گواہان
وعدہ کیا کہ مکہ
مکرمہ میں ہوٹل
کا حرم سے
فاصلہ 400 میٹر ہو گا اور مدینہ
منورہ میں 600 میٹر
ہوگا اور ہوٹل میں چار
بندوں کے دو کمرے بمع
واش ر وم فراہم کئے
جائیں گے۔ ہم
نے زیادہ رقم کی حامی
اسلئے بھری کے میرے والدین
بوڑھے اور بیمار
ہیں اور انکو
کو کوئی تکلیف
نہ پہنچے۔ جب
خداخدا کرکے وقت
روانگی آیا تو
اِن کے گروپ میں
ایک گروپ ممبر
کا ویزہ ہی نہیں لگا
تھا جس کی
وجہ سے تمام
حضرات کو انتہائی
ذہنی تکلیف کا
سامنا کرنا پڑا۔ بل آخر
جب تمام حضرات
مکہ مکرمہ پہنچے تو
مولانا صاحب کے تمام
وعدے یکے بعد دیگرے جھوٹے
ثابت ہونے لگے۔
جدہ سے مکہ
مکرمہ کا
سفر جس اذیت
اور تکلیف سے ان
حضرات نے طے کیا وہ
تو اللہ ہی جانتا ہے
کیونکہ ایک بس
والے نے بیچ
راستے میں اِن
تمام حضرات کو
دوسری بس کہ حوالہ
کیا اور اُس
صاحب نے اِنکو
ہوٹل سے دور ایک نا معلوم
جگہ پر زبردستی
اتار دیا۔ ایک
تو دیار غیر اور
اوپر سے سارے
لوگ بیمار و ضعیف
اور حالت احرام میں،
مرتے کیا نہ کرتے اپنے
تئیں اللہ اللہ کرکے بتائے گئے
ہوٹل (سامی سندھی)
پہنچے کیونکہ جو
نمبر مولانا صاحب
نے یہاں سے دئیے تھے اُن میں سے
کوئی صاحب فون نہیں اٹھا
رہا تھا۔ مذکورہ
ہوٹل پہنچ کر
معلوم ہوا کہ وہاں
تو کمرے ہی میسر
نہیں۔ نہ ہوٹل
عملہ نہ مولانا
صاحب انکی اس تکلیف کا
احساس کر رہے تھے
تاہم کئی گھنٹوں
کے انتظار کے
بعد اِن کو ایک
دوسرے ہوٹل میں
جگہ دلوائی جہاں ایک ایک کمرے
میں چھ سے
سات بندوں کو رکھا گیا
تھا۔
جب اِن
حضرات نے مدینہ منورہ
کی طرف رخت
سفر باندھا تو ایک
دفعہ پھر
ہم نے مولانا
صاحب سے گزارش
کی کہ یہاں
جو ہونا تھا
ہو گیا لیکن مہربانی
فرما کر اس
بات کو یقینی
بنائے کہ وہاں
اِن کو کوئی
اور تکلیف کا
سامنا نہ کرنا پڑھے
جس پر مولانا
لال بہادر صاحب
نے ایک دفعہ
پھر ہمیں اپنی
چکنی چوُپڑی باتو ں
سے تسلی دی
کہ وہاں انکو
کو ئی مسلۂ نہیں
ہوگا لیکن ہوا
اسکے مکمل برعکس
کیونکہ وہاں کے
مسائل اور تکالیف
نے اِن حضرات
کو مکہ مکرمہ میں پیش
آنے والی
تکالیف بھُلا دیں۔ مہیا کیا گیا
ہوٹل (انوار الحجرہ) انتہائی
خستہ حالت میں
تھا کمرے کے ساتھ متسل
باتھ روم کی جگہ چار
کمروں کے ساتھ ایک
واش روم دیا گیا تھا مزید یہ
کہ مسجدنبوی سے
فاصلہ 600 میٹر کی
بجائے 2000میٹر تھا۔ ایک ایک کمرے میں
چار کی جگہ
سات سات بندوں کو رکھا گیا
تھا۔
مولانا صاحب
سے جب اسکے
بارے میں شکوہ کیا
کہ ہم نے
تو آپ کو زیادہ
رقم اچھی سہولیات
کیلئے دی تھی
مگر اب وہاں ایسا
کچھ نہیں
ملا، تو وہ صاف
مُکر گئے اور کہنے
لگے کے آپ
نے تو مجھے پیسے ہی نہیں دئیے
آپ جانے اور
عربین ٹریول ایجنسی جانے
اور وہ لوگ (عربین
ٹریول ایجنسی) کہنے لگے کہ
آپ سے
تو ہمارا کوئی
کام ہی نہیں آپ
جانے اور مولانا صاحب
جانے۔
مدینہ منورہ سے مکہ
مکرمہ واپسی پر
جو کمرہ مہیا کیا گیا
اس میں چار کی بجائے
نو بندوں کو رکھا گیا جو کمرہ کم
اور حجرہ زیادہ
دِکھ رہا تھا۔ قصہ مختصر
کے میرے والدین کا
یہ سفر سہولیات کے لحاظ سے انتہائی تکلیف دہ
رہا۔ میری تمام
مسلمان بھائیوں سے
گزارش ہے کہ نام
نہاد مولانالال بہادر /سراج اور
عربین انٹرنیشنل ٹریولز
(پرائیوٹ لمیٹڈ) واقع بوبی پلازہ
پشاور صدر سے
دور رہیں۔ میرا نام
میاں نوید احمد اور
موبائل نمبر 0314-9200005
ہے۔ میں نے جو لکھا
حرف بہ حرف حقیقت پر مبنی
ہے اور میں اپنے
الفاظ کا زمہ دار
ہوں۔


Excellent
ReplyDelete